35

پریس کلب الیکشن اور فیز 2کا لالی پاپ ،تحریر روہیل اکبر

صحافی معاشرے کا حساس ترین فرد ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے کی آنکھ اور زبان بھی ہوتا ہے جو ہر دور میں مظالم کا شکار بھی رہا اور لطف وعنایات کا مرکز بھی رہا آج بھی نگران حکومتوں میں صحافی نہ صرف وزارتوں پر فائز ہیںبلکہ ایک صحافی پنجاب کا نگران وزیر اعلی بھی ہے بلاشبہ صحافیوں کی خدمات معاشرے کے لیے ناقابل فراموش ہیں بعض صحافی تواپنے فرائض کی ادائیگی میں جان سے بھی چلے گئے ایک صحافی کبھی کسی کی باتوں میں نہیں آتالیکن حقیقت اور حقائق کو بخوبی سمجھنے کے باوجود اپنی ہی برادری کے ہاتھوں پریشان اور مایوس ہوجاتا ہے اور اسکی شکایت بھی کسی سے نہیں کرتا شائد اسی کو وضع داری اور حوصلہ کہتے ہیں پاکستان کے ہر بڑے شہروں میںموجود پریس کلب کے الیکشن تقریبا سال کے آخری ہفتے میںہوتے اور جو سارا سال کچھ نہیں کرتے وہ الیکشن کو گرما گرم تقریب بنا ڈالتے ہیں مختلف گروپ اپنے اپنے انداز میں اپنا پنا چورن بیچنا شروع کردیتے ہیں لاہور پریس کلب سمیت مختلف شہروں کے پریس کلب میں صحافیوں کو ورغلانے کے لیے ہرسال پلاٹوں کاشوشہ چھوڑدیا جاتا ہے اسلام آباد ،لاہور ،کراچی اور ملتان سمیت بہت سے صحافیوں کو پلاٹ مل چکے ہیں اور جن کو ابھی تک نہیں ملے انہیں ہر گروپ پلاٹ دلانے کے وعدے پر الیکشن میں مصروف کرلیتا ہے جھوٹے وعدے کیے جاتے ہیں جھوٹی تسلیاں دی جاتی ہیں اور تو اور جھوٹے لیٹر بھی بنوا کرتقسیم کیے جاتے ہیں اس بار لاہور پریس کلب میں فلحال خاموشی ہے لیکن کراچی پریس کلب بازی لے گیا جنہوں نے پلاٹوں کے جھانسے سے اپنی الیکشن مہم کا آغاز کردیا ہے انکی طرف سے خبر جاری کی گئی ہے کہ کراچی پریس کلب کے باقی ماندہ 700اراکین کے لیے پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے لیے تقریبا 125ایکڑ اراضی درکار ہے اس ضمن میں صحافیوں کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے لیے کیماڑی میں موجود زمین کی نشاندہی کی گئی ہے مذکورہ اراضی لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی (LDA)کے زیرِ انتظام ہے اجلاس میں صدر کراچی پریس کلب سعید سربازی، سیکریٹری شعیب احمد، ڈائریکٹر جنرل لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی سید شبیہ الحسن، ڈپٹی کمشنر کیماڑی جنید اقبال خان، ڈپٹی کمشنر ملیر سعید لغاری، سیکریٹری ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی ایم عرفان، ڈی ایس لینڈ یوٹیلائزیشن غضنفر علی عباسی، ڈپٹی ڈائریکٹر لینڈ ذیشان احمد خان، ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز سوائی خان چھلگری، ڈائریکٹر پریس انفارمیشن حسن اصغر نقوی، انفارمیشن افسر سریش کمار اور دیگر افسران نے شرکت کی اسی طرح کی خبریں اب لاہور پریس کلب کی طرف سے بھی جاری کی جائیں گی کہ فیز 2کے لیے میٹنگیں جاری ہیں جگہ کی نشاندہی کے لیے اجلاس ہورہا ہے رائے ونڈ روڈ پر جگہ کی نشاندہی کردی گئی ہے پھر اگلے دن پریس ریلیز جاری ہوگی کہ فیروز پور روڈ پر جگہ تلاش کرلی گئی ہے پھر ایک اور اعلان ہوگا کہ نہر کنارے فیز 2کے لیے جگہ مل گئی ہے اسکے بعد مبارکبادوں کا سلسلہ شروع ہوجائیگا اور ٹھیک الیکشن سے چند دن پہلے وزیراعلی سے ملاقات کے دوران باقی ماندہ صحافیوں کے لیے فیز 2کا لیٹر بھی جاری کردیا جائیگا فیز 2کا یہ ڈرامہ کئی سال سے چل رہا ہے جنہیں صحافی کالونی میں پلاٹ مل چکے ہیں انہیںکوئی ٹینشن نہیں انکی طرف سے بھاڑ میںجائے فیز 2 اور جنہیں انہوں نے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رکھا ہے وہ ابھی تک انہی کے پیچھے ہیں لاہور پریس کلب میں گذشتہ کئی سالوں سے فیز 2پر سیاست ہورہی ہے اور جو اس سلسلہ میں سب سے زیادہ جھوٹ بولتا ہے وہ الیکشن جیت جاتا ہے پھر اسکے بعد الیکشن تک فیز2سرد خانے میں رکھ دیا جاتا ہے تاکہ اگلا الیکشن پھر اسی دکھاوے پر لڑا جاسکے یہ صرف لاہور اور کراچی کے پریس کلب میں نہیں ہوتا بلکہ ہر پریس کلب کی یہی ریت بن چکی ہے لاہور پریس کلب چونکہ پاکستان کا سب سے بڑا پریس کلب ہے اس لیے سیاسی منافقت بھی اسی پریس کلب میںزیادہ ہے یہ کلب لاہور کی خوبصورت اور پرفضا مقام شملہ پہاڑی پر واقع ہے ایک طرف گورنر ہاﺅس ہے تو دوسری طرف پی ٹی وی ،ریڈیو ریلوے ہیڈ کوارٹر اور ڈی جی پی آر ہے یہ کلب بنیادی طور پر کارکن صحافیوں کی ایک انجمن ہے جس میں ماہرین تعلیم، کاروباری افراد اور مختلف پبلک سروس سیکٹر کے افراد اعزازی ممبر ہیں لاہور پریس کلب کے کل ممبران کی تعداد 3250 ہے ان میں سے آدھے الیکشن میں ووٹ دینے بھی نہیں آتے اور جو آتے ہیںوہ شخصیت پرست ہیں یا اپنے اپنے گروپ کو سپورٹ کرنے آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج پریس کلب کی حالت ناقابل بیان ہے یہاں کے ملازمین کا رویہ حاکموں جیسا ہے اور عہدیدار ملازم بنے ہوئے ہیں اپنے ملازمین کے رہی بات کھانے کی تو اسکامعیار پہلے جیسا رہا نہیں یہاں بھی دو طبقات ہیںایک کی چائے وقت پر اور بہترین آتی ہے دوسرے طبقے کو چائے دینے سے انکار کردیا جاتا ہے اگر دے بھی دی جائے تو اسے چائے کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے الیکشن کے دنوں میں فیز 2پر مختلف گروپ بن جاتے ہیں جو اپنا اپنا راگ الاپتے ہیں لیکن بعد میں وہ بھی خاموشی اختیار کرلیتے ہیں شائد اسی میںکوئی مصلحت ہو تی ہوگی ایک بار الیکشن جیتنے والا بڑی مشکل سے الیکشن کی جان چھوڑتا ہے اس سال بھی کروڑو روپے کی گرانٹ کلب کو ملی لیکن کھانے کا معیار تبدیل ہوا نہ ہی کراکری آئی چائے پینے کے لیے کپ نہیںہوتے اور پانی کے لیے گلاس نہیں ہوتا اکثر پانی کپ میں اور چائے گلاس میں پینے کو ملتی ہے ۔لاہور پریس کلب کی تاریخ پاکستان سے بھی پرانی ہے پاکستان کے وجود میں آنے سے پہلے ہی لاہور پریس کلب کام کررہا تھا جسکی عمارت کوئینز روڈ پر گنگا رام ہسپتال کے قریب ایک عمارت میں تھی پھر 1958 میں لاہور پریس کلب کو اس وقت کے میٹرو ہوٹل میں منتقل کر دیا گیا جو اب مال روڈ پر واقع واپڈا ہاو¿س ہے پاکستان کا پہلا نگار ایوارڈ بھی اس 2 کمروں کی عمارت میں منعقد کیا گیا میڈم نور جہاں نے ایوارڈ تقریب میں شرکت کی پریس کلب کو بعد میں وارث روڈ پر واقع عمارت میں منتقل کر دیا گیا چند مہینوں کے بعد لاہور پریس کلب کو دیال سنگھ مینشن میں منتقل کر دیا گیا جو اب پنجاب یونین آف جرنلسٹس کا دفترہے پھرسیاسی ورکراور عوام دوست وزیراعلی غلام حیدر وائیں نے 1990 میں شملہ پہاڑی کو لاہور پریس کلب کے لیے مختص کردیا 1992 سے لاہور پریس کلب اسی مقام پر کام کر رہا ہے اس وقت لاہور پریس کلب میں 53 اعزازی ممبران بھی ہیں جن میںسابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو(شہید)، سابق صدور فاروق لغاری(مرحوم)، وسیم سجاداورسابق بھارتی وزیر اعظم اندر کمار گجرال شامل ہیں لیکن ہم نے پھر بھی فیز 2کا لالی پاپ ہی بیچنا اور اس بار کراچی پریس کلب بازی لے گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں