44

گلگت بلتستان ڈپارٹمنٹل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کا اجلاس،مختلف منصوبوں کی منظوری

گلگت بلتستان ڈیپارٹمنٹل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کا رواں مالی سال کا تیسرا اجلاس مورخہ 2 اور3 اکتوبر 2023 کو ایڈیشنل چیف سیکرٹری پلاننگ و ڈویلپمنٹ گلگت بلتستان کیپٹن ( ر) مشتاق احمد کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں 71 ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا اور ان میں سے 5 ارب 99 کروڑ 54 لاکھ مالیت کے حامل 63 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی جبکہ 7 اسکیمیوں کو موخر کر دیا گیا۔ اجلاس میں پی ایس ڈی پی منصوبہ 40 میگا واٹ ہینزل ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو اعلی فورم میں پیش کرنے کی سفارش کی گئی۔ اجلاس میں محکمہ داخلہ و جیل خانہ جات اور محکمہ قانون کے 86 کروڑ 32 لاکھ مالیت کے حامل 6 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دیدی گئی جن میں ڈسٹرکٹ اٹارنیز و ڈسٹرکٹ پبلک پراسکیوٹرز کے رہائش کےلئے مکانات کی تعمیر، کمپیوٹرائزڈ بارڈر پاس و اسلحہ لائسنس کا اجراء، غذر، استور کھرمنگ اور شگر میں ریسکیو 1122 ایمرجنسی سروس کا قیام، جی بی کے تینوں ڈویژنوں میں موٹربائیک ایمبولنس، بسین پولیس سٹیشن کی تعمیر، برسٹ نالہ و مترم دان میں جی بی سکاؤٹ کےلئے چیک پوسٹ کا قیام شامل ہیں۔اجلاس میں محکمہ تعلیم کے ایک ارب 5 کروڑ 66 لاکھ مالیت کے 11 اہم منصوبے منظور کئے گئے، جن میں آؤٹ ریچ سکالرشپ پروگرام فیز تھری، حلقہ 5 نگر میں طالبات کےلئے ڈگری کالج کی تعمیر، پبلک سکول بسین گلگت میں عدم دستیاب سہولیات و اکیڈیمک بلاک کی تعمیر، پرائمری سکولوں کی تعمیر، پرائمری سکولوں کی مڈل سکولوں میں اپ گریڈیشن شامل ہے۔اجلاس میں محکمہ برقیات کے ایک ارب 50 کروڑ 90 لاکھ مالیت کے حامل 7 اہم منصوبوں کی منظوری دیدی گئی، جن میں اے بی سی کیبل و سمارٹ انرجی میٹرز گلگت، دیامر، غذر و سکردو میں تنصیب، ہائیڈل سٹیشنوں کےلئے ٹی جی سیٹ کی خریداری کے علاوہ ہینزل پاورپراجیکٹ کی سفارشات شامل ہیں۔اجلاس میں محکمہ صحت کے 26 کروڑ 78 لاکھ مالیت کے حامل 5 اہم منصوبوں کی بھی منظوری دیدی گئی جن میں گلگت بلتستان کے تمام ضلعوں میں غریب اور حاملہ خواتین کےلئے نشوونما پروگرام، دشکن میں 10 بیڈ ہسپتال کی تعمیر، غذر اور ہنزہ میں سی کلاس ڈسپنسری کی اپ گریڈیشن شامل ہے۔اجلاس میں محکمہ لوکل گورنمنٹ اینڈ رورل ڈویلپمنٹ کے 7 کروڑ 55 لاکھ مالیت کے حامل 2 منصوبوں کی بھی منظوری دیدی گئی جس میں گلگت کی واٹر ٹیسٹنگ لیبارٹری کی بہتری اور دیامر و سکردو میں لیبارٹرییز کی تعمیر کا منصوبہ شامل ہے۔اجلاس میں محکمہ تعمیرات کے ایک ارب 84 کروڑ 51 لاکھ مالیت کے حامل 25 اہم منصوبوں کی منظوری دیدی گئی جن میں گلگت دیامر گانچھے غذر استور ہنزہ اور نگر میں سڑکوں کی تعمیر و میٹلنگ، سکوار جوٹیال اور سونیکوٹ میں واٹر پمپس کی اپ گریڈیشن، مشہ بروم میں واٹر سپلائی کی تعمیر کے علاوہ کھرمنگ گانچھے سکردو اور نگر میں پلوں کی تعمیر کے منصوبے شامل ہیں۔اجلاس میں محکمہ زراعت کے 11 کروڑ 93 لاکھ مالیت کے حامل 2 اہم منصوبوں کی منظوری دیدی گئی جن میں گلگت میں کسانوں کی بہتر آمدن بذریعہ باغبانی کے علاوہ بلتستان میں بک ویٹ اور بیرلے کی پیداوار میں اضافے کا منصوبہ شامل ہے۔اجلاس میں محکمہ سیاحت کے 3 کروڑ 48 لاکھ مالیت کے 2 اہم منصوبوں کی منظوری دیدی گئی جن میں ڈائریکٹوریٹ آف ٹوریسٹ سروسز کو فعال کرنا اور پولو کی ترویج و ترقی کے منصوبے شامل ہیں۔اجلاس میں محکمہ سماجی بہبود کے 22 کروڑ 37 لاکھ مالیت کے 4 اہم منصوبوں کی بھی منظوری دیدی گئی جن میں جن میں معذور افراد کی سروے کو مربوط بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے انفارمیشن منیجمنٹ سسٹم کا قیام ، گلگت بلتستان میں بہبود آبادی پروگرام، آر ایچ کیو ہسپتال گلگت میں سوشل سروس میڈیکل سنٹر کا قیام اور غذر میں ووکیشنل سنٹرز کے قیام کا منصوبہ شامل ہے۔ایڈیشنل چیف سیکریٹری ڈویلپمنٹ کیپٹن( ر) مشتاق احمد نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تمام منظور شدہ منصوبے مفاد عامہ کے حامل ہیں لہذا ان کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔ انہوں نے تمام محکموں کے ذمہ داروں کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام منصوبوں کے پی سی ون کی تیاری سے قبل منصوبوں کی تعمیر کیلئے موزوں جگہ کا انتخاب لازمی کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام متعلقہ آفیسران اپنے محکموں کے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کیلئے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کریں تاکہ عوام کو حکومت کے شروع کردہ منصوبوں کے ثمرات سے فیض یاب ہونے کا موقع مل سکے اور گلگت بلتستان میں تعمیر و ترقی کی رفتار تیز ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں