52

کوئی ہے ؟ بجلی کے بل , تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

میں شدید اذیت دکھ تکلیف درد میں مبتلا ہو گیا تھا جیسے ہزارو ںزہریلے بچھوئوں کو میرے جسم پر چھوڑ دیا گیا ہو او روہ ہر گزرتے پل کے ساتھ میری نس نس کو زہر آلود ٹیکے لگا رہے ہوں جن سے میرے قلب روح سسک تڑپ رہے ہو جب اذیت کرب کا احساس برداشت سے بڑھ گیا تو میں کمرے میں جا کرصوفے پر گر سا گیا اور بے جان وجود پتھرائی آنکھوں سے چھت کو دیکھنے لگا میری آنکھوں نے اور سماعت نے جو دل خراش منظر دیکھا اور سنا اگر میری جگہ آپ بھی ہوتے تو شاید آپ کا ری ایکشن بھی میرے جیسا ہی ہو تا درد دکھ تکلیف بے بسی آخری حدوں کو کراس کر گئے تھے کوئی جیتا جاگتا سانس لیتا انسان دکھ اور کرب کے اِیسے دوزخ میں بھی جل سکتا ہے کبھی سوچھا نہ تھا لیکن انتہائی کرب انگیز تکلیف دہ تلخ حقیقت تھی جس سے میں ابھی گزر رہا تھا مجھے جب سے خدائے بے نیاز نے راہ حق کا طالب بننے کی توفیق اور ہمت دی ہے کسی حد تک صبر شکر اور بے نیازی سی آگئی ہے مشکل سے مشکل حالات میں راضی باللہ رہنے کی کو شش کرتا ہوں لیکن آج کا منظر اور ملاقات ایسی تلخ حقیقت تھی کہ میرے جیسا بے نیاز بندہ بھی تڑپ تڑپ گیا تھا کہ زندگی کسی پر اِس قدر بے رحم بھی ہو سکتی ہے کہ اُس کو زندگی کی سانسیں آگ لگنا شروع ہو جائیں اور وہ خوبصورت زندگی کے رنگوں سے منہ پھیر کر موت کو منہ لگا نا پسند کرے ‘زندگی بہت خوبصورت اور کیف انگیز ہے ہر گزرتا لمحہ اپنے دامن میں خوشیوں مسرتوں ذائقوں کے ہزاروں رنگ لیے ہو تا ہے کوئی بھی نارمل شخص زندگی سے منہ موڑنا پسند نہیں کرے گا بلکہ زندگی کو مزید خوبصورت جاندار پر جوش بنانے کے لیے ہزاروں جتن کرے گا لیکن یہی زندگی کسی کے لیے پھانسی کا پھندہ یا دکھوں کی ایسی کرب ناک دلدل بن جاتی ہے کہ وہ بیچارہ زندگی کے بجائے قبر میں سونا راحت محسوس کرے گا جس واقعے کا میں تذکرہ کر نے جارہا ہوں اِس کا پس منظر میرا چند ہفتے قبل کالم ’’ہائے بجلی کے بل ‘‘ ہے جس میں میں نے مہنگائی کی ہولناکی اور لوگوں کی بے بسی کا ذکر کیا تھا کہ بہت ساری غریب بیوہ یتیم عورتیں ہو شربا مہنگے بجلی کے بلوں کو ادا کرنے کے لیے جسم فروشی پر مجبور ہو گئے ہیں اگر بجلی کا بل ادا نہ کیا تو بجلی کاٹ دی جائے گی پھر زندہ رہنا ناممکن غربت کی خوفناک چکی میں پسے لو گ آٹا اور بجلی کے بلوں میں اد موئے ہو کر رہ گئے ہیں بہت مہنگا آٹا جس کے بغیر زندگی کی سانسوں کو قائم رکھنا نا ممکن آٹا لیں تو پیسے ختم اب بجلی کا پہاڑ قیمہ بنا کر رکھ دیتا ہے پہلے بجلی کا بل زیادہ نہیں گزارے کے قابل تھا لوگ کنجوسی کر کے بل ادا کر دیتے تھے لیکن ظالم حکومت نے بجلی اتنی زیادہ مہنگی کر دی ہے آئی ایم ایف کو خوش کرنے کے لیے عوام کا مہنگائی کے دوزخ میں جلنے کے لیے بے آسرا چھوڑ دیا ہے غریب یتیم عوام مدد مدد پکارتے ہیں لیکن کوئی ان کی سننے والا نہیں ہے بے حسی ظلم بربریت اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اوپر سے جب حکمران مہنگے کو ٹ ٹائیاں لگا کر جو کر مسخرے بن کر بلند و باک دعوے کر تے نظر آتے ہیں کہ ہم نے ملک کو دیوالیہ ہو نے سے بچا لیا ہم نے اِس قوم پر احسان عظیم کیا ہے اِن کے جھوٹے نعروں دعوئوں کو مزید اجاگر کرنے کے لیے یہ اِن کے درباریوں مراثیوں کی فوج ہے جو اِن کے جھوٹے کھوکھلے نعروں کی تشریح کر تے ہیں الفاظ کی جادوگری مداری پن سے باز نہیں آتے کہ ہمارے حکمران قوم کے مسیحا ہیں جو دن رات محنت کر کے ملک کو دیوالیہ ہو نے سے بچا رہے ہیں اِن درباری طوطوںسے کوئی پوچھے کہ اِس ملک کو لوٹا کن لوگوں نے یہی واہ لوگ ہیں جو بنکوں کے بنک ڈکار گئے اربوں ڈالر لوٹ کر باہر لے گئے سارے وسائل اِن کی آسائشوں پر خرچ ہو گئے اِن حکمرانوں کو یہ نہیں پتہ کہ حکومت غریب عوا م کو راحت آرام دینے کا نام ہے لوگوں کی زندگیوں کو سکون آرام دینے کا نام ہے امیروں کی تجوریوں سے دولت نکال کر غریبوں پر لگانے کا نام ہے لیکن کیونکہ اِن کا اپنا تعلق اشرافیہ سے ہے ملک کے دولت مند لوگ اِن کے دوست رشتہ دار ہیں اُن کے مفاد کے لیے یہ دوست پالیسیاں بناتے ہیں غریبوں کرش کر کے دنیا کے ہر ترقی یافتہ ملک میں امیروں پر ٹیکس لگائے جاتے ہیں یہاں پر ظالم حکمران غریب یتیم بے بس عوام پر ہر گزرتے دن کے ساتھ ٹیکس لگاتے ہیں بجلی مہنگی کر کے اِن کی تسکین نہیں ہوئی تو عوام پر پٹرول بم گرا کر انجوائے کرتے ہیں عوام بیچاری بجلی کے بلوں کے ساتھ پیٹرول کی مہنگائی کے نیچے آکر قیمہ بن گئی ہے حق تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ کوئی نیک حکمران لائے یا اِن کے دلوں میںخوف خدا اور ہدایت ڈال دے جس منظر نے مجھے رلا کر رکھ دیا آپ کے اطراف میں بھی ہیں خدا کے لیے ان کو دیکھو ان کی مدد کرو آج صبح جب میں نے دروازہ کھولا تو میرے جاننے والی پچاس سالہ غریب اندر آکر کر سی پر بیٹھ گئی کالا سیاہ رنگ چہرے پر موت کی زردی سیاہی میں نے بے ساختہ پو چھا باجی آپ کو کیا ہوا آپ تو بوڑھی ہو گئی ہیں تو اُس نے سر سے دوپٹہ سر کا دیا سر پر ایک بھی بال نہیں تھا بولی کینسر کی مریضہ جس کے رحم میں کینسر کی رسولیاں ہیں جن سے ہر وقت خون رستا رہتا ہے تین شادیوں کے بعد بھی اولاد نہ ہوئی چھ ماہ پہلے آخری خاوند بھی مر گیا اب میر ا جسم ایسا کہ کوئی بھی شادی نہ کرے آپ کا کالم پڑھ کر آئی ہوں کہ بہت ساری عورتیں بجلی کے بل ادا کر نے کے لیے جسم فروشی کر رہی ہیں میرا دنیا میں کوئی نہیں خاوند تھا وہ بھی مر گیا اولاد بھی نہیں ہے بوڑھی کینسر کی مریضہ جو اپنا جسم بھی نہیں بیچ سکتی کوئی میرے قریب تو کیا تھوک کر جائے گا اکیلی عورت بجلی کا بل ہزاروں میں جسم بیچ نہیں سکتی کینسر کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر رہی ہوں میں کدھر جائوں کیسے یہ بل ادا کروں میرے پاس تو حسن جوانی جسم بھی نہیں وہ بول رہی تھی میرے کانوں میں پگلا سیسہ ڈال رہی تھی میرے پاس جو کچھ تھا ہاتھ جوڑ کر اُسے پیش کیا وہ چلی گئی لیکن مجھے جلتے ہوئے انگاروں پر چھوڑ گئی آپ کے دائیں بائیں تو کوئی ایسی عورت نہیں جو پکار رہی ہو کوئی ہے جو میری مدد کرے مجھے مرنے سے بچا لے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں