56

ہم گلگت بلتستان کشمیر اور اس کے عوام میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری

ہم گلگت بلتستان کشمیر اور اس کے عوام میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری
میں نے کشمیر اور گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو امید دلائی ہے کہ سیاست اور معیشت میں بھی شراکت دار بنائیں گے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے لاہور میں پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے دو روزہ اجلاس کے اختتام کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ پریس کانفرنس کے آغاز میں انہوں نے پارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی طرف سے منظور کی گئی قراردادیں پڑھ کر سنائیں جس میں ملک کی معاشی صورتحال، اشیائے صرف کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں، بجلی کی مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ سی ای سی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ آئین کے مطابق ملک میں انتخابات کی تاریخ اور شیڈول کا فوری اعلان کرے۔ سی ای سی نے پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دینے کا بھی مطالبہ کیا۔ پاکستان میں اقلیتی برادری کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے اس موقع پر موجود صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں یہ ممکن نہیں کہ لیول پلیئنگ فیلڈ کے حوالے سے پاکستان بھر سے پیپلز پارٹی کے نمائندوں کے تمام تحفظات کو دہرایا جائے۔ ہم نے یہ تحفظات صدر زرداری کے سامنے پیش کیے تاکہ ان کا ازالہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر رائے کا ایک تناظر ہوتا ہے۔ ہم انتخابات کے حوالے سے اپنی حکمت عملی کے بارے میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچے اور اسی لیے ہم ملک میں عام انتخابات کی تاریخ اور شیڈول کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہونے کے بعد حکمت عملی بنائیں گے۔ چیئرمین بلاول نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی توجہ پورے ملک پر ہے۔ ہم ہر صوبے کو اہمیت دیتے ہیں۔ نواز شریف یا کسی اور سے کوئی نہیں پوچھتا کہ وہ سندھ میں وقت کیوں نہیں گزارتے، بلوچستان میں ایک رات کیوں نہیں گزارتے یا خیبرپختونخوا پر توجہ کیوں نہیں دیتے؟ پیپلز پارٹی پنجاب میں بنی لیکن اسے ایک سازش کے ذریعے پنجاب سے نکال دیا گیا۔ یہ سازش پہلی بار 2013 میں جنرل پاشا، چیف جسٹس چوہدری افتخار اور ایک سیاسی جماعت نے رچائی تھی۔ایک سیاسی جماعت کو اپنی حکومت کے دوران نقصان اٹھانا پڑا کیونکہ پیپلز پارٹی کو پنجاب سے باہر رکھا گیا تھا۔ پھر 2018 میں جنرل فیض حمید اور ثاقب نثار نے پی پی پی کو پنجاب سے باہر رکھنے اور ایک مخصوص سیاسی جماعت کواقتدار میں لانے کی سازش کی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سی ای سی نے آئینی موقف اور پھر انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن آف پاکستان کے موقف پر بات کی۔ ہم سب کی رائے تھی کہ کسی بھی الجھن کو دور کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کو انتخابات کے شیڈول کا اعلان فوری طور پر کرنا چاہیے۔ ہمارا خیال ہے کہ الیکشن شیڈول کا اعلان ہونے کے بعد تمام سیاسی جماعتیں انتخابی موڈ میں ہوں گی اور اپنے منشور لے کر آئیں گی۔ پیپلز پارٹی اپنا منشور بھی پاکستانی عوام کے سامنے پیش کرے گی۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ پارلیمنٹ اور پارلیمانی اداروں کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ ہم سب جمہوریت کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔ چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ وہ کشمیر اور گلگت بلتستان اور اس کے عوام میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے لوگوں بالخصوص کشمیر اور جی بی کے نوجوانوں کو امید دلائی ہے۔ ہم سب کا فرض ہے کہ نوجوانوں کو نہ صرف سیاست بلکہ معیشت میں بھی شراکت دار بنائیںاور ہمیں روایتی سیاست چھوڑنی ہوگی۔ چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ پاکستان کی 65 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر کی ہے اور میں بھی اس سال 35 سال کا ہونے والا ہوں۔ میں نے بیرون ملک تعلیم حاصل کی ہے اور دنیا دیکھی ہے۔ یہ میری سمجھ ہے کہ ہمیں نوجوانوں کو ملک کی سیاست اور معیشت میں شامل کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بی آئی ایس پی کے ذریعے خواتین کو حصہ دیا اور اسی طرح ہمیں نوجوانوں اور کسانوں کوشراکت دار بنانا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں چیئرمین بلاول نے کہا کہ پیپلز پارٹی نہ مشکل میں ہے نہ مظلوم ہے۔ ہم اس بات کے عادی ہیں کہ ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملتی لیکن میں پر امید ہوں۔ مجھے اپنی ٹیم پر بھروسہ ہے۔ صرف ایک سیاسی جماعت ہے جو عوام کے پاس جانے سے نہیں ڈرتی اور وہ ہے پیپلز پارٹی۔ میں وزیر خارجہ کی حیثیت سے اپنی کارکردگی، سیلاب کے دوران اپنے کردار اور پھر ایف اے ٹی ایف کے معاملے کے لیے کئے گئے اقدامات کے بارے میں لوگوں کو بتا سکتا ہوں۔ ہم بی آئی ایس پی میں اپنی کارکردگی کے بارے میں لوگوں کو بتانے کے لیے تیار ہیں۔ ہم تیار ہیں اور بالکل مایوس نہیں ہیں۔ چیئرمین بلاول نے کہا کہ الیکشن کے بارے میں ہمارا موقف سب کو معلوم ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے نیب قوانین میں ترامیم سے متعلق آج کے فیصلے پر سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جسٹس بندیال آخری جج تھے جنہیں ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے بحال کیا گیا۔ اب تاریخ اپنا فیصلہ دے گی کہ عدلیہ کی تحریک سے ملک کو کوئی فائدہ ہوا یا نہیں۔ پی ٹی آئی کے ساتھ سیاسی مذاکرات سے متعلق سوال کے جواب میں چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ 9 مئی سے پہلے ہماری کوشش تھی کہ الیکشن کے لیے ہر سیاسی قوت سے مذاکرات ہوں لیکن پی ٹی آئی نے جناح ہاو ¿س، جی ایچ کیو اور دیگر فوجی تنصیبات پر حملے کا فیصلہ کیا۔ ہم ان لوگوں کے ساتھ بات چیت کر سکتے ہیں جو 9 مئی کے حملوں میں ملوث نہیں ہیں۔ غیر عسکری لوگوںکے ساتھ مذاکرات کے لیے ہمارے دروازے کھلے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ نے نہ صرف سندھ بلکہ پورے ملک کے لیے صحت کی سہولیات کے میدان میں ترقی کی ہے۔ ہمارے پاس تقریباً ہر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر میں NICVD ہے۔ گمبٹ کا ہسپتال پاکستان بھر کے لوگوں کی خدمت کر رہا ہے۔ ہمارے پاس اب بچوں کے ہسپتال ہیں۔ ہم SIUT کے لیے ڈاکٹر ادیب رضوی کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ہم نے 2016 کے بعد سے یہ سب کچھ مختصر مدت میں ممکن بنایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں