29

وفاقی حکومت ہوش کے ناخن لیں،خالد خورشید

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید نے خیبر پختو نخواہ کے سابق صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا اور پی ٹی آئی رہنما مزمل اسلم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہماری گزشتہ پریس کانفرنس سے ابھی تک وفاق نے گلگت بلتستان کے لئے ایک روپیہ بھی اضافی جاری نہیں کیا. پہلی بار گلگت بلتستان نے دس ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کیا. ہمیں 47 ارب کے فنڈز مل رہے ہیں جس میں سے 41 ارب محض تنخواہیں ادا کر رہے ہیں. گلگت بلتستان کو بائیس سے تئیس ارب روپے اے ڈی پی کی مد میں ملنے چاہئیں تھے اے ڈی پی کو وفاق نے محض اٹھارہ ارب تک رکھا ہے. وفاقی حکومت کی جانب سے آج ہمیں خط ملا کہ وفاق ہمیں دو ارب روپے دے گا. آج سے پانچ سال پہلے 14 ارب روپے گندم کی بوریوں پہ سبسڈی دی جارہی تھی اسمیں پی ڈی ایم حکومت نے آتے ہی کٹوتی کی. اس سے بھی بڑی افسوسناک بات یہ ہے کہ آبادی میں اضافے کے ساتھ گندم میں بھی اضافہ ہونا چاہیے تھا مگر آج وفاقی حکومت ہمیں 9 ارب گندم کی مد میں دینے کا کہہ رہے ہے جو گلگت بلتستان کی عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے. گلگت بلتستان حکومت اتنے بڑے خسارے کو کیسے مینیج کرے. ہمیں محض نظام حکومت چلانے کے پیسے دے دیں. گلگت بلتستان کو دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے. سکردو میں درجہ حرارت منفی چودہ ڈگری ہے اور بجلی محض دو گھنٹوں کیلئے آتی ہے. وفاقی حکومت سے درخواست ہے ہوش کے ناخن لیں گلگت بلتستان کی عوام نے کچھ دن قبل احتجاج کیا تو انہیں پتہ چل گیا اب کے بعد، میں لوگوں کو روک نہیں سکتا. جب لوگ احتجاج پر نکل آئیں تو ہم سے شکوہ نہ کیا جائے. وفاق کے پی ڈبلیو ڈی ڈیپارٹمنٹ میں گلگت بلتستان کی ضروریات سے کئی گنا ذیادہ پیسے رکھے گئے ہیں. ہم وفاقی حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ ہوش کے ناخن لیں ورنہ عوام سڑکوں پر ہوگی تو دشمن ملک اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے. سیاسی قیادت کا بنیادی کام ہے افراتفری پر قابو پایا جائے مگر پی ڈی ایم کی وفاقی حکومت چن چن کر گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور کے پی کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے. اگر ملک میں افراتفری ہو گی تو اس کا ذمہ دار کون ہے. ملک کا دیوالیہ نکل رہا ہے اور یہ توشہ خانہ کی گھڑیوں پہ لگے ہوئے ہیں. ہم انہیں آخری مرتبہ متنبہ کر رہے ہیں پھر عوام کو جوابدہ وفاقی حکومت ہوگی ہم نہیں ہونگے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں